Water chestnut سنگھاڑا مردانہ طاقت اور قوت میں بے پناہ اضافہ

Water chestnut سنگھاڑا مردانہ طاقت اور قوت میں بے پناہ اضافہ

 

سنگھاڑا

(مردانہ قوت میں بھرپور اضافہ)

سنگھاڑا ایک بدن پرور اور سستا پھل اور غذا ہے۔ یہ پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی بیلیں پانی کے اوپر رہتی ہیں۔ سنگھاڑا اکتوبر سے دسمبر تک اللہ تعالیٰ نے ہماری بدنی طاقت بحال رکھنے اور سردی کا مقابلہ کرنے والی غذا کے طورپر پیدا فرمایا ہے۔

سنگھاڑے کے مغز میں تیرہ فیصد پروٹین، شکر اور گلوکوز میں تبدیل ہونے والے نشاستہ والے اجزاء د تہائی سے بھی زیادہ موجود ہوتے ہیں۔

کمر درد میں مفید

اطباء سنگھاڑا کے مغز کو خشک کر کے اس کے آٹے کو کمر کے درد کے لیے اور بدن کو کھوکھلا کرنے والی رطوبتوں کے اخراج کو روکنے کے لیے استعمال کرواتے ہیں۔

بے پناہ طاقت میں اضافہ

ایک پاؤ سنگھاڑا میں دو روٹی کے برابر غذائیت شامل ہوتی ہے۔ اگر سردی کے موسم میں صبح تین سے اکیس سنگھاڑے ابلے ہوئے کھا کر پانی پی لیا جائے تو ہمارے جسم کو غذائیت کے علاوہ گوشت بنانے والے اجزا سے بھرپور ناشتہ ملتا ہے۔ اثر لوگ سنگھاڑا کے موسم میں اس کا ناشتہ کرتے ہیں۔ سنگھاڑا ہاضم اور قوت مدافعت پیدا کرنے والی عمدہ غذا ہے۔ سنگھاڑا کا سب سے بڑا جز نشاستہ ہے یہ جسم کو فربہ کرتا ہے۔ مردانہ قوت سے بھرپور اثرانداز ہوتا ہے۔ مادہ منویہ کو گاڑھا کرتا ہے بلکہ کہنا یہ چاہیے کہ سنگھاڑا قوت باہ کا خزانہ ہے۔ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ جریان اور ضعف باہ کے لیے بے حد مفید ہے۔ پیشاب کی زیادتی میں سنگھاڑے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ اس کے آٹے میں میوہ ملا کر حلوہ بنا کر استعمال کرنے سے بے پناہ طاقت ملتی ہے۔

چہرے اور جلد کو نرم و ملائم بنانے میں مفید

سنگھاڑا کا آٹا چہرے کی خشکی کو دور کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم اور چمکدار بناتا ہے۔ حسب ضرورت اس کے آٹے میں پانی اور سرسوں کا تیل ملا کر ابٹن بنا کر چہرے پر پندرہ بیس منٹ تک لگا رہنے دینا چاہیے خشک ہونے پر ہاتھ سے رگڑ کر اتار دیں اور پانی سے منہ کو اچھی طرح صاف کریں۔

خونی دستوں کی تکلیف میں سنگھاڑا کا استعمال شفا کامل عطا کرتا ہے۔ جگر کی گرمی اور بلڈ پریشر کے لیے بے حد مفید ہے۔ یہ خونی قے کو روکتا ہے اور تب دپ کے لیے بھی شفاء کا حکم رکھتا ہے۔

سنگھاڑا کھانے سر پرہیز

اسے بے احتیاطی سے کھانے سے قولنج پیدا ہوتا ہے۔ 

پیشاب کو روکتنا ہے۔ اس سے پیٹ میں درد بھی ہو جاتا ہے۔ 

یہ دیر ہضم ہوتا ہے اور تین چار گھنٹے میں معدہ سے نکلتا ہے۔ 

اسے کھانے کے بعد اگر تھوڑا سا شہد چاٹ لیا جائے تو فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ یہ قابض ہوتا ہے۔

بوڑھے اور سردمزاج لوگوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سنگھاڑا سرد تر اور خشک ہوتا ہے۔ 

Comments