- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
گرما
(ایک رسیلا اور میٹھا پھل)
گرما خشک پہاڑوں اور ریگستانی علاقوں کا حیرت انگیز اور خوش ذائقہ پھل ہے جس کا بیچ، گودا اور چھلکا سب غذائی اہمیت کا حامل اور شفائی افادیت کا حامل ہے۔
گرما کی خصوصیات
یہ خوبصورت، رسیلا اور میٹھا تربوز نما پھل ہے جو سردے کی ہی قسم سے ہے لیکن سردے سے زیادہ لذیذ اور شیریں ہے۔ اس کا مزاج گرم تر ہے اس میں خالق حقیقی نے غذائیت وافر مقدار میں پیدا کر دی ہے۔
گرما میں پوٹاشیم، کیلشیم، فولاد، فاسفورس، گلوکوز اور وٹامنز اے، بی، سی اور ڈی شامل ہے۔
جگر مثانہ اور گردوں کی بیماریوں میں مفید
گرما ایک قدرتی قبض کشا اور کثرت سے پیشاب جاری کرنے والا پھل ہے۔ یہ جگر مثانہ اورگردوں کے ہریلے فضلات بکثرت پیشاب کے ذریعے بدن سے خارج کر دیتا ہے۔ یورک ایسڈ کی قلمیں جمنے سے درد اور وورم ہو جائے یا گردوں اور مثانہ میں ریگ یا پتھری پیدا ہونے لگے تو اس کے استعمال سے پتھری کے چھوٹے ٹکرے یورک ایسڈ نکل کر جوڑوں کی لچک بحال ہو جاتی ہے۔
جگر کے امراض میں یہ بہت شفا بخش غذا ہے جن مریضوں کا جگر ورم کر جاتا ہے۔ پیٹ بڑا ہو جاتا ہے اور پیشاب کھل کر نہیں آتا۔ کمر میں گردہ کے مقام پر ایک جانب یا دونوں جانب درد رہتا ہو سہ پہر میں گرما ایک پاؤ سے ایک کلو تک استعمال کریں تو اس تکلیف سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
گرما بے حد خوش ذائقہ پھل ہے اسے تندرست معدہ تین گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے۔ یہ دل و دماغ اور معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ اعصابی تکالیف کو درست کرتا ہے اور جسمانی طاقت بحال کرتا ہے۔
کمزور جسم کو موٹا اور صحت مند کرے
گرما جسم کو فربہ کرنے والا پھل ہے۔ گرم مزاج اور دبلے پتلے جسم والے اشخاص کے لیے اس کا استعمال بہت ہی مفید ہے۔ آدھ کلو گرما کی تقریبا ایک وقت کی خوراک کے برابر غذائیت ہوتی ہے۔ اس میں تین پاؤ دودھ کے برابر کیلشیم ہوتا ہے۔
گرما غذائیت سے بھرپور خدا کی دی ہوئی نعمت ہے جو طبیعت کو فرحت بخشتا ہے۔ کھانا ہضم ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ قبض کا خاتمہ کرتا ہے۔ دانتوں کا میل صاف کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جسم میں گلوکوز کی کمی دور ہوتی ہے۔
گرما کھانے کے نقصانات
گرما کو نہا منہ ہرگز نہیں کھانا چاہیے اس کے کھانے کے بعد سکنجبین پی لینا مفید ہیں۔
گرما پھل کی تاثیر، گرما کی تاثیر، گرما اور سردا میں فرق

Comments
Post a Comment