Banana کیلا غذائیت کا بیش بہا خزانہ

 

Banana  کیلا غذائیت کا بیش بہا خزانہ
کیلا غذائیت کا بیش بہا خزانہ

کیلا

(غذائیت کا بیش بہا خزانہ)

قدرت نے انسانی جسم کی نشوونما کے لیے جو صحت بخش اور زودہضم غذائیں پیدا کی ہیں۔ کیلا ان میں سے ایک بہترین پھل ہے۔ کیلا ایک بین الاقوامی، خوش شکل اور لذیذ اور بدن پرور غذا ہے۔

پہلے پہل یہ بنگلہ دیش کے جنگلوں اور ملایا کے آس پاس خود رو درختوں میں پایا جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ گرم مرطوب علاقوں میں کاشت ہونے لگا اور اب پوری دنیا میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور وسیع پیمانے پر اس کی ملک در ملک تجارت ہوتی ہے۔

یہ پھل ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب میں کاشت کیا جاتا ہے۔ 

کیلے کی خصوصیات

یہ طاقت بڑھانے والا شفا بخش خوش ذائقہ اور دیر تک خراب نہ ہونے والا پھل ہے جس کے اوپر قدرت نے ایک موٹا اور سخت چھلکا غلاف کی شکل میں چڑھا دیا ہے۔ سائنس کا کہنا ہے کہ کیلے کے اندر جراثیم داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کا موٹا قدرتی غلاف اسے جراثیموں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس چھلکے سے کسی بیماری کا کیڑا داخل نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ جراثیم سے پاک پھل ہے جس کے اندر کسی قسم کا کوئی جراثیم یا گرد و غبار داخل نہیں ہو سکتا۔

میڈیکل سائنس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کیلے میں غذائیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ دیر ہضم نہیں بلکہ زود ضم ہے۔ اس کا آٹا نظام ہضم کی خرابی، پیچش، مروڑ اور دستوں کی شکایت میں بہت مفید ہے۔

مشہور افریقی سیاح سٹینلی کے بیان کے مطابق کیلے کا آٹا سنگھاڑا کے آٹے سے بھی زیادہ خوش ذائقہ، ہلکی اور زود ہضم غذا ہے۔  اس میں وہ تمام خوبیاں اور اوصاف موجود ہیں جو جسم انسانی کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہیں۔

کیلا وٹامنز کا خزانہ

کیلا بے حد مفید خوراک ہے۔ اس میں صحت بخش اجزاء، فولاد، قدرتی شیرینی اور وٹامن پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام پھلوں میں وٹامنز کا سستا اور اعلیٰ خزانہ ہے۔ کیلے کو وٹامنز کے لحاظ سے مفید ترین پھل کہنا بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس میں وٹامن اے، بی اور ای بھی موجود ہیں۔ طب اور سائنس کے نقطہ نظر سے ایک پونڈ کیلے میں چار سو کیلوریز ہوتی ہیں جو ایندھن کا کام دیتی ہیں۔ ان کی بدولت جسم میں حرارت بڑھتی ہے۔ ایک بڑے کیلے میں ایک سو کیلوریز ہوتی ہیں۔ یہ ٹھوس غذا میں ہوتا ہے۔ پانی کی مقدار اس میں بہت کم ہوتی ہے صحت بخش شکر کی کثرت اس کو زود ہضم بنا دیتی ہے۔ کیلا قدرتی اجزاء کا خزانہ ہے۔ کیلشیم، فاسفورس، سلفر، گندھک، تانبہ اور فولاد سب پھلوں سے زیادہ اس میں پایا جاتا ہے۔ انسانی جسم کو آیوڈین کی ضرورت ہوتی ہےاسے کیلا پورا کرتا ہے۔ دودھ کے ساتھ اس کا استعمال ایک مکمل غذا ہے۔

کیلے کا درخت بہت زیادہ پھل دیتا ہے۔ کیلے کے ایک تنے پر چھ تا پندرہ گچھے لگتے ہیں اور ایک گچھے کا وزن ستر پونڈ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ پکے ہوئے کیلے میں نشاستہ زیادہ ہوتا ہے اور وہ نہایت لذیذ قدرتی شکروں کی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس میں نمک اور فروٹ شکر بھی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔

پکے ہوئے کیلے کا مزاج گرم تر ہوتا ہے۔ کچے کیلے کا مزاج سرد تر ہوتا ہے۔ کچا کیلا چار پانچ گھنٹے اور پکا ہوا کیلا دو تین گھنٹے میں ہضم ہو جاتا ہے۔ 

کیلا کھانے کے فائدے

کیلا بدن کو موٹا کرتا ہے اور غذائیت کا بیش بہا خزانہ ہے۔ قوت باہ پیدا کرتا ہے۔ بلغم کو جسم سے کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔ خشک کھانسی اور سینے کے امراض میں اکسیر ہے۔ کیلا خون پیدا کرتا ہے۔ کیلا مادہ منویہ کو گاڑھا کرتا ہے۔ جریان احتلام میں مفید ہے۔ عورتوں کے مخصوص امراض کے لیے مفید ہے۔

کیلے کا گودا پوری غذا کا خزانہ ہے۔ اس کا استعمال گردوں میں چربی کی تہہ مضبوط کرتا ہے۔ کمر کو طاقت دیتا ہے جسم مضبوط کرتا ہے اس کے استعمال سے خشک کھانسی اور گلے کی خراش دور ہو جاتی ہے۔

کیلا بچوں کی بہترین غذا

کیلا بچوں کے لیے بہترین غذا ہے۔ دودھ میں ملا کر اس کا سفوف بچوں کو دینا چاہیے۔ کیلے کسی بھی عمر کے لوگوں کے لیے نقصان کا باعث نہیں ہوتے بلکہ ایک ہفتہ کے بچے کو بھی بلاخوف یہ خوراک دے سکتے ہیں۔

کیلے سے آیوڈین کی کمی پوری کیجیے 

اکثر لوگوں میں گلے کے گوشت کے بڑھ جانے کی تکلیف ہو جاتی ہے جوکہ بہت بدنما اور بدصوروت دکھائی دیتا ہے۔ کیلے میں ایسی صلاحیت موجود ہے جوکہ اس مرض کو دور کر سکے۔ یہ تکلیف عموما آئیوڈین کی کمی سے ہوتی ہے کیلا ایسا پھل ہے جس میں آیوڈین کافی مقدار میں موجود ہوتی ہے کیلے کو استعمال کرنے والے لوگوں میں یہ مرض پیدا نہیں ہوتا۔

کیلا کھانے سے بدن میں تازگی کا احساس

اگر کام کاج کے بعد تھکن محسوس ہو تو کیلے کا استعمال جسم میں تازگی پیدا کرتا ہے۔ یہ غذائیت کے اعتبار سے مکمل غذا ہے جو جسم انسانی کی نشوونما کے لیے ہر طور سے مکمل ہے۔ یہ غذا کے علاوہ دوا کے طور پر بھی بے حد مفید ہے۔

کیلا دانتوں کے امراض میں مفید

کھیلے کا پھل دانتوں کی بہترین حفاظت کرتا ہے یہ دانتوں کی بیشتر بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ پائیوریا جیسے مرض میں بھی بہت فائدہ دیتا ہے۔

کیلے سے چہرے کے داغ دھبوں کا علاج

کیلے کا گودا تلی کے تیل میں ملا کر چہرے پر ملنے سے چہرے کے داغ دھبے مٹ جاتے ہیں۔

کیلا کھانے کے نقصانات

کیلے میں شکری اجزاء زیادہ ہوتے ہیں اس لیے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے منع ہے۔ 

نہار منہ کیلا کھانا مفید نہیں بلکہ نقصان دہ ہے۔ 

یہ دیر ہضم ہے معدہ میں ہوا پیدا کرتا ہے اس لیے کمزور معدہ کے لوگوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ 

کچا کیلا ہضم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس کے کھانے سے کئی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔


Image Source:  Photo by Brett Jordan on Unsplash

کیلا کی تاثیر، کیلا اور مردانہ طاقت، کچے کیلے کے فوائد، خالی پیٹ کیلا کھانا، کیلے کے نقصانات، دہی اور کیلے کے فوائد، کیلے کی تاثیر، کیلا کھانے کا طریقہ

Comments