- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
![]() |
بیر
(وٹامن بی کمپلیکس کا نادر مجموعہ)
بیر موسم بہار کا تحفہ اور انعام خداوندی ہے۔ اس غذائیت سے بھرپور اور شفابخش پھل کی کئی اقسام ہیں۔ یہ ہندوستان کا مشہور درخت ہے جوکہ ننھے ننھے کانٹوں والا اور چھوٹے سے قد کا تنا رکھنے والا ہے۔ بیر کو ہندوستانی سیب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بے حد سخت جان درخت ہوتا ہے۔
بیر کی اقسام
اس کی اقسام میں دو قسمیں بہت مشہور ہیں۔ دیسی اور پیوندی۔ بیر اکتوبر سے مارچ تک پھل دیتا ہے۔ یہ خشک آب و ہوا اور ریتلی جگہوں پر زیادہ ہوتا ہے۔
خصوصیات
قدرت نے اس پھل اور پتوں میں غذائی اور دوائی خواص رکھے ہیں۔ اس میں آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم موجود ہیں۔ وٹامن اے، بی اور ڈی بھی اس میں موجود ہیں۔ وٹامن بی کمپلیکس تو اس میں خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔
وٹامن کی کمی کا علاج
بیر قدرت کی ایسی نعمت ہے جو ہمیں وٹامن کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پیٹ کی بیماریوں کا علاج
بیر تبخیر معدہ میں مفید اور انتڑیوں کو طاقت دیتا ہے۔ یہ آنتوں کے کیڑوں کو مارنے میں فائدہ مند ہے۔ اگر آنتوں میں ورم ہو جائے تو اس کے استعمال سے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
بیرونی زخموں کا علاج
بیرونی زخموں کے لیے بیری کی پسی ہوئی پتیاں اگر زخم پر لگائی جائیں تو زخم بھرنے لگتے ہیں۔ یہ ورم کو تحلیل کرتا ہے اور زہریلے اثرات کو مٹا دیتا ہے۔
ایک پاؤ بیر اپنے اندر ایک وقت کی خوراک جتنی غذائیت رکھتا ہے۔
بلڈ پریشر کا علاج
بیر میں بلڈ پریشر کو کم کرنے کی افادیت بھی پائی جاتی ہے۔
بالوں کی خوبصورتی اور بال گرنے کا علاج
ہمارے ہاں عورتیں بیری کے پتوں کو جوش دے کر اس کے پانی سے سر دھوتی ہیں جس سے بال خوبصورت، چمکدار، لمبے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے استعمال سے بال گرنے بند ہو جاتے ہیں۔
گلے کے امراض کا علاج
بیر کے استعمال سے منہ کا ذائقہ درست ہو جاتا ہے۔ یہ بلغم کو پتلا کر کے آسانی سے نکال دیتا ہے۔
اس کا گوند خشک کھانسی کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے۔
بیر آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے۔
موسم گرما میں اکثر دل کی دھڑکن تیر رہنے لگتی ہے ایسی صورت میں پانچ چھ بیر طبیعت کو سکون دیتے ہیں۔ اس پھل کی بے شمار خوبیاں ہیں اسی لیے حکماء اپنے مریضوں کو بطور دوا زیادہ تر پھل ہی استعمال کرنے کو کہتے ہیں۔ ہر پھل کو اس کے موسم میں اپنی بساط کے مطابق ضرور استعمال کرنا چاہیے۔
نقصانات
بیر ہمیشہ پکا ہوا کھانا چاہیے کیونکہ کچا بیر کھانسی پیدا کرتا ہے۔
پیٹ میں گیس پیدا کرتا ہے۔

Comments
Post a Comment