- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
![]() |
آم
(پھلوں کا بادشاہ اور صحت بخش پھل)
آم موسم گرما کا لذیذ پھل ہے۔ اس کا ذائقہ بے حد دل پسند اور تاثیر تقریبا ہر مزاج کے موافق ہے۔ یہ نہایت مزے دار اور عمدہ پھل ہے۔ اس کی کاشت گرم مرطوب آب و ہوا میں بالخصوص موسم گرما میں ہوتی ہے۔ اس کی بھرپور پیداوار ماہ جون، جولائی، اگست اور ستمبر میں ہوتی ہے۔ انہی مہینوں اور اسی موسم میں آم پکتا اور میٹھا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پھل ہے جس کو امیر اور غریب سب کھاتے ہیں۔ آم کی کئی اقسام ہیں اور رنگت میں بھی یہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔ آم دنیا بھر میں سب پھلوں سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ کچا اور پختہ آم غذائیت اور شفائی اثرات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا، گودا، ریشہ اور گٹھلی پر انسانی جسم میں پائے جانے والے امراض کا صحت بخش علاج ہے۔
خصوصیات
پختہ آم کا مزاج گرم اور تر ہوتا ہے۔ کچا سرد اور خشک ہوتا ہے۔ یہ ایک خوش نما اور افادیت سے بھرپور پھل ہے۔ جسم میں گوشت بنانے والے شکری نشاستہ دار اور روغنی اجزاء سے مالا مال ہونے کے علاوہ فاسفورس، کیریٹین، آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم، گلوکوز پچیس فیصد اورپانی شامل ہوتا ہے۔
فوائد
آم قبض کشا ہے اور پیشاب کے ذریعے جسم سے فضلات کا اخراج کرتا ہے۔ گاڑھا اور کچا آم دیر سے ہضم ہوتا ہے۔
وٹامنز اے، بی، ڈی اور سی بھی قدرت نے اس کو عطا کیے ہیں۔
کمزور بچوں کی نشوونما میں اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔
آم خون پیدا کرنے والا پھل ہے
اس کے استعمال سے چہرے پر روشنی اور چمک آ جاتی ہے۔ چہرہ حسین اور دلکش ہو جاتا ہے۔ چہرے کی پژمزدگی ختم ہو جاتی ہے۔
دائمی قبض کے مریضوں کے لیے ایک شفاء کا پیغام ہے۔
ایک تندرست معدہ اسے تین چار گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے۔ دیسی آم دو سے تین گھنٹے میں عموماً ہضم ہو جاتا ہے۔ اس کا پتلا رس اور ریشے معدے پر ناگوار بوجھ نہیں ڈالتے۔
آم کے ریشے دانتوں کی میل کچیل صاف کر کے مسوڑھوں کو مضبوط بناتے ہیں۔
آم ایک مکمل غذا ہے۔ کھانسی اور دمے کے مریضوں کے لیے پتلے رس کا آم استعمال کرنا مفید ہے۔
آم دل، دماغ، جگر، معدہ، گردوں، پٹھوں، ہڈیوں اور پھیپھڑوں کو بھی طاقت دیتا ہے۔ یہ پھل نعمت ہے۔
خون صاف کرنے والی دوا ہے۔
آم کا استعمال جوانی برقرار رکھنے والی غدودوں کی رطوبتوں کو زیادہ مقدار میں طاقت دیتا ہے۔
اللہ تعالی نے اس پھل کے اندر یہ خوبی پیدا کی ہے کہ زہر کو زائل کرتا ہے۔
عورتوں کے امراض میں بھی آم بے حد مفید ہے۔
منہ کی بدبو کا علاج
آم کی مسواک منہ کی بدبو دور کرتی ہے۔
آم کے پھول بچھو کے کاٹے والی جگہ پر ملنے سے درد دور ہو جاتا ہے۔
آم کا اچار، مربہ اور چٹنی
آم کا اچار، مربہ، اور چٹنی لذیذ اور ہاضمہ دار ہوتی ہے۔ آم کا مربہ مقوی بدن اور مقوی دماغ ہوتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے۔ قبض کشا ہے۔
آم کے استعمال میں چند ضروری احتیاطیں
آم کے نقصانات
آم کو کھانے کے ساتھ یا بعد دوپہر کھانا چاہیے۔
آم کھانے کے بعد کچی لسی یا دودھ پینا زیادہ بہتر ہے۔ اسے کھانے کی بجائے چوسنا زیادہ بہتر ہے۔
آم جگر کے لیے مضر ہے۔
یہ بھاری اور بادی ہے۔ خراب معدے والے اور جنہیں دست آتے ہوں انہیں ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
کھٹے آم چوسنے سے مردوں میں مادہ منویہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ جریان اور احتلام کا باعث بنتا ہے۔
خراب پیٹ اور انتڑیوں کے مریض کے لیے نقصان دہ ہے۔
زیادہ کھانے سے گرمی پیدا کرتا ہے۔ پیشاب جل کر اور رک رک کر آنے لگتا ہے۔
آم کی کیری حلق کے امراض، بلغمی، خونی بیماریوں اور دمہ میں مضر ہے۔
آم خواہ کسی قسم کا ہو کھانسی کی حالت میں نقصان دہ ہے۔
آم زیادہ استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ خون میں تیزابیت بڑھاتے ہیں۔ پھوڑے، پھنسیاں اور حرارت میں اضافہ کرتے ہیں۔
آم پیٹ میں گیس پیدا کرتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد چند جامن کھانے سے اصلاح ہو جاتی ہے۔
Photo Source: Photo by HOTCHICKSING on Unsplash
آم کی اقسام، آم کی کاشت، آم کا موسم، آم کا جوس، آم کے نقصانات

Comments
Post a Comment